Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Pages

Classic Header

{fbt_classic_header}

بریکنگ نیوز:

latest

'یہی کیا کم ہے کہ نسبت مجھے اس خاک سے ہے'

  'یہی کیا کم ہے کہ نسبت مجھے اس خاک سے ہے' واشنگٹن ڈی سی — یہ سال تھا 1984 اور مہینہ تھا نومبر کا، جب مجھے کراچی سے پروڈیوسر محسن ع...

 

'یہی کیا کم ہے کہ نسبت مجھے اس خاک سے ہے'


واشنگٹن ڈی سی — یہ سال تھا 1984 اور مہینہ تھا نومبر کا، جب مجھے کراچی سے پروڈیوسر محسن علی کا فون آیا کہ خالد تمہیں 25 تاریخ کو لاہور آنا ہے، 26 نومبر کو پی ٹی وی کا ایک شو ہے اس میں تم شامل ہو۔ مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔


اب میں خوشی، حیرت اور استعجاب کی کیفیت میں مبتلا ہو گیا کہ یہ کیا سلسلہ ہے کس قسم کا پروگرام ہے، مجھے کیا کرنا ہے، اور صرف مجھے ہی کیوں، کسی اور کو کیوں نہیں بلایا حالانکہ اور بھی سینئر لوگ تھے۔

کچھ ساتھیوں سے پوچھا بھی، لیکن کسی کو کچھ معلوم نہ تھا۔ غرض کچھ دن بعد جہاز کا ٹکٹ اور ہوٹل کی بکنگ مل گئی اور ہم ایک روز پہلے لاہور پہنچ گئے۔

وہاں محسن علی، شعیب منصور اور معین اختر نے، جو اسی ہوٹل کے ایک کمرے میں تھے، بلایا اور پروگرام کی نوعیت بتائی۔ اگلے دن جب وقت مقررہ پر نیچے ہال میں پہنچے تو خوشی کی انتہا نہ رہی کہ ٹی وی اور فلم کے درخشندہ ستارے، گلوکار، مصنف، ڈائریکٹر اور پروڈیوسر وہاں موجود تھے جن سے ملنا اور انہیں دیکھنا کسی اعزاز سے کم نہ تھا، بلکہ ان کے درمیان بیٹھنا میرے لئے بڑا فخر کا باعث تھا۔

پروگرام شروع ہوا تو معین اختر کنول نصیر کے پاس پہنچے جو پی ٹی وی کی پہلی اناؤنسر تھیں۔ معین نے مزاح کے انداز میں پوچھا کہ کنول آپ نے لاہور سے 26 نومبر 1964 کو پہلی اناؤنسمنٹ کی، کیسا محسوس ہوتا ہے۔

’’جی بڑا فخر ہوتا ہے۔‘‘

جی ہاں یہ فخر کی بات تو ہے لیکن کبھی آپ نے سوچا کہ پی ٹی وی آج بیس سال کا ہو گیا!

جی ہاں۔ کنول نے جواب دیا۔

تو آپ نے جب پہلی اناؤنسمنٹ کی تو آپ بیس سال کی تو ہوں گی۔

’’جی۔‘‘

تو آج آپ کی عمر کیا ہو گئی۔ اس پر سب نے بھرپور قہقہہ لگایا اور کنول نے کہا۔ ’’ہا ہائے میں نے تو یہ سوچا ہی نہیں۔‘‘

اسی محفل میں۔ حسینہ معین بھی موجود تھیں ان سے سوال کیا گیا کہ آپ پر الزام ہے کہ آپ اپنے ڈراموں میں ہیروئنوں کو بہت زور آور اور ہیرو سے بھی زیادہ طاقتور دکھاتی ہیں۔ تو حسینہ نے جواب دیا کہ یہ الزامات بہت عرصے سے مجھ پر لگ رہے ہیں اور اب میں ان کی عادی ہو گئی ہوں لیکن میں اب جو ڈرامے دیکھتی ہوں ان میں ہیرو بالکل ہیروئن لگتے ہیں، ان پر تو کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔

ایک بار پھر زور کا قہقہہ پڑا اور اس طرح سب ہی فنکاروں سے ہنسی مذاق جاری رہا اور آج تک یہ پروگرام پی ٹی وی کا ایک یادگار پروگرام جانا جاتا ہے۔

میرے لئے بھی یہ پروگرام بہت یادگار تھا کہ اتنے قابل اور مشہور لوگوں سے ملاقات ہوئی لیکن آج جب یہ پروگرام دیکھتا ہوں تو خوشی کے بجائے غم کی ایک کیفیت چھا جاتی ہے کہ کیا شاندار لوگ تھے، جو اب ہم میں نہیں رہے۔

معین اختر، کمال احمد رضوی، رفیع خاور (ننھا)، دلدار پرویز بھٹی، اشفاق احمد، بانو قدسیہ، شہزاد خلیل، محسن علی اور کئی دیگر عظیم نام۔

اور اب ہم سے بچھڑنے والوں میں مزید اضافہ ہو گیا۔

پہلے خبر آئی کہ کنول نصیر کو انتہائی تشویشناک حالت میں پمز ہسپتال، اسلام آباد میں لایا گیا، جہاں وہ موت و زیست کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد زندگی کی بازی ہار گئیں۔ ابھی اس صدمے سے جانبر نہ ہوئے تھے کہ حسینہ آپا کی موت کی خبر بجلی بن کر گری۔

جمعے کے دن دونوں پیاری اور نیک ہستیوں کو سپرد خاک کر دیا گیا۔

کیا کمال شخصیات تھیں!

کنول نصیر نے جس گود میں پرورش پائی وہ برصغیر ہند و پاک کی ریڈیو کی خوبصورت ترین آواز اور صداکارہ تھیں اور لاہور کے پروگراموں کی جان، بچوں کے پروگرام کی آپا شمیم، صدارتی ایوارڈ یافتہ، موہنی حمید تھیں، جو بولتی تھیں تو لگتا تھا پھول جھڑ رہیں ہیں۔

ایک مرتبہ وہ ریڈیو پنڈی تشریف لائیں تو سٹیشن کے معروف صداکار اور پروڈیوسر نور احمد مرحوم نے ان کے ساتھ ایک ریڈیو ڈرامہ کیا۔

ہم جو ان کے پرستار تھے دوسرے سٹوڈیو سے شیشے کے اس پار سے دیکھ رہے تھے، دونوں فنکاروں کی کیا صداکاری تھی، فن کا عروج تھا اور ہم مبہوت ان کو سن رہے تھے۔ واقعی موہنی کی آواز لاکھوں دلوں میں اتر جانے والی من موہنی آواز تھی۔

اس لئے کنول کے لئے مائیک یا کیمرے کے سامنے بولنا، گھر کی بات تھی جسے انہوں نے اپنی تعلیم، معلومات اور محنت سے اتنا پختہ کر دیا تھا کہ وہ ریڈیو اور ٹی وی کے ہر پروگرام میں نگینے کی طرح جڑ جاتی تھیں۔ اسی لئے وہ آخر دم تک دونوں اداروں کی ضرورت رہیں۔

حسینہ معین کا کیا جواب تھا۔ ٹی وی کے ڈرامے شہزوری، کرن کہانی، ان کہی، تنہائیاں، دھوپ کنارے اور بیشتر ان کی تخلیقی، تحریری اور تہذیبی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

تعلیم کے زمانے سے ہی انہوں نے کالج کے مجلّے کی ادارت سنبھالی اور پھر ریڈیو کراچی کے مشہور زمانہ، سٹوڈیو نائن میں ڈرامے لکھنے شروع کئے اور جب ٹی وی کا کراچی سے آغاز ہوا تو وہ اس کی ضرورت بن گئیں۔

غرض کس کس کو یاد کیجئے، کس کو بھول جائیے!

پروین شاکر نے کہا تھا،

بخت سے کوئی شکایت، نہ افلاک سے ہے

یہی کیا کم ہے کہ نسبت مجھے اس خاک سے ہے

بزم انجم میں قبا خاک کی پہنی میں نے

اور میری ساری فضیلت اسی پوشاک سے ہے

(خالد حمید کا نام پاکستان میں ٹی وی خبرنامے کے حوالے سے کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ اوپر دی گئی تحریر ان کے خصوصی بلاگز کا وہ سلسلہ ہے، جس کے تحت وہ وائس آف امریکہ اردو کے لئے اپنی یادداشتیں تحریر کر رہے ہیں۔ اوپر دیئے گئی تحریر میں انہوں نے پاکستان ریڈیو کی پہلی خاتون میزبان، پہلی خاتون نیوز کاسٹر اور پاکستان ٹیلی ویژن کی پہلی خاتون اناونسر کنول نصیر اور معروف پاکستانی ڈرامہ نگار حسینہ معین کے بارے میں اپنی یادوں میں وی او اے اردو کے قارئین کو شریک کیا ہے)

کوئی تبصرے نہیں